17 مئی 2010 - 19:30

سعودی عرب کے وہابی مفتی نے ایک فتوے کے ضمن میں کہا ہے کہ جو لوگ عورتوں اور مردوں کے درمیان جدائی کے حامی ہیں اپنے افکار سے توبہ کریں ورنہ انہیں پھانسی کی سزا دی جائے!۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مفتی "عبدالرحمن البراک" نے قبل ازیں فتوی دیا تھا کہ دفاتر، مدارس اور دیگر شعبوں میں خواتین اور مردوں کا مل کر کام کرنا حرام ہے؛ ان کا کہنا تھا کہ عورت اور مرد کا ایک مقام پر کام کرنا کئی حرام افعال کا باعث بنتا ہی جیسے: حرام نظریں، حرام خلوتیں اور حرام باتیں / کلام۔لیکن بہرحال وہابی مفتیوں کی طرف سے ہر موضوع میں فتوے جارے ہونے کے بعد اب سعودی عرب میں بھی ان کی مخالفت کا اظہار ہونے لگا ہے اور بعض با اثر سعودیوں نے البراک کے اس فتوے کی شدید مخالفت کا اعلان کیا چنانچہ تکفیر کا ہتھیار ایک بار پھر اس مفتی کے کام آہی گیا اور انھوں نے نیا فتوی جاری کیا۔شیخ البراک نے نئے فتوے میں کہا ہے: جن لوگوں نے میرا فتوی قبول نہیں کیا ہے، اسے رد کردیا ہے اور اس کی مخالفت کی ہے انھوں نے در حقیقت اللہ کے حرام کو حلال کرنے جیسے گستاخی کا ارتکاب کیا ہے وہ کافر اور مرتد ہیں اور انہیں فوری طور پر پھانسی کی سزا ملنی چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ اس 77 سالہ وہابی عالم کا شمار سعودی عرب کے اہم ترین مفتیوں میں ہوتا ہے اور انہیں بھی دیگر وہابی مفتیوں کی مانند اپنے مخالفین کے خلاف تکفیر و ارتداد کے فتوے جاری کرنے میں زبردست مہارت حاصل ہے۔ .........../110